اشاعتیں

اگست, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پروفیسر غضنفر

بزمِ افسانہ نگار ایوینٹ : ہزار رنگ تاثرات : غضنفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرکاۓ بزم کو مبارک باد۔ حسبِ دستور تین افسانچے پیش کیے گئے۔ آج کی بزم میں تبصرے کم ہوۓ بحث زیادہ ہوئی ۔ ادب و علم کے لیے بحث ضروری بھی ہے کہ اس سے گتھیاں سلجھتی ہیں۔ذہن سے جالے ہٹتے ہیں۔نظر سے دھند ہٹتی ہے۔ عکس روشن ہوتا ہے۔تصویریں صاف ہوتی ہیں۔ تخلیق کار کو ان رایوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے جو منفی نوعیت کی ہوتی ہیں۔متن سے متعلق اگر کوئی سوال پیدا ہوا تو کیوں ہوا؟ اس پر تخلیق کار کو دکھی ہونے یا برا ماننے کے بجاۓ سنجیدگی سے سوچنا چاہیے ۔ فن کار کا کمال یہ ہے کہ قاری کے ذہن میں جتنے بھی سوالات ابھریں،ان کے جواب متن سے مل جائیں۔ اچھا اور منجھا ہوا فن کار اس طرح کے سوالات پیدا ہونے کا موقع ہی نہیں دیتا۔وہ ایک ایک لفظ کو سوچ سمجھ کر اسے سیاق و سباق میں رکھ کر اور اس کے کنسکوینسیڑ کو اچھی طرح دیکھ کر استعمال کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ افسانے کی طرح افسانچے کا بھی ایک ایک لفظ اہم ہوتا ہے بلکہ یہاں تو اس کا خیال کچھ زیادہ ہی رکھنا ہوتا ہے کہ افسانے کے پلاٹ کے مقابلے میں یہاں کساو کی اہمیت زیادہ ہے۔ لیکن بحث سے اگر ...

افسانچہ۔۔۔آٹو گراف خالد بشیر تلگامی

جولائی کا مہینہ تھا ۔گرمی اپنے شباب پر تھی۔لیکن اپنے پسندیدہ اسٹار کو دیکھنے کا جذبہ گرمی کی شدت پر حاوی تھا۔بالی وڈ کے ایک فلم اسٹار کی شہر میں آمد تھی۔اخبارات اور نیوذ چینلوں میں اس کے آنے کا خوب چرچا تھا ۔لہذا نہرو پارک میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔میں بھی جیب میں آٹو گراف بک لیے وہاں فلم اسٹار کی آمد کا منتظر تھا۔مقرر وقت سے ایک گھنٹہ زاید ہو گیا تھا لیکن اسٹار کی آمد نہیں ہوئی تھی۔ پیاس کے مارے میرے حلق میں کانٹے پڑ گئے تھے۔پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔لیکن پانی کہیں دستیاب نہیں تھا ۔پارک کے آس پاس تحفظ کے نقطہ نظر سے شہری انتظامیہ نے کوئی دکان لگنے ہی نہیں دی تھی۔اور پارک کے اندر کھانے پینے کا کوئی سامان لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جب پیاس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو میں پارک سے باہر نکلا۔باہر نکلتے ہی میری نگاہ ایک فوجی پر پڑی جو اپنی بوتل کا پانی پی رہا تھا۔یہ دیکھ کر میں اس کے پاس پہنچا اور غور سے اسے دیکھنے لگا۔اس سے پہلے کہ میں پانی طلب کرتا ،اس نے خود ہی پوچھ لیا۔"کیا پانی چاہیے؟" مجھے اس کے سوال پر خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی۔میں نے اثبات میں سر ہلای...

افسانچہ۔۔۔دیش بھگت

  ٹیچر نے دیش بھگتی کا سبق پڑھانے کے بعد اس کے متعلق بچوں سے کچھ سوالات پوچھے۔ بچوں کے مختلف جوابات سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔پھر انہوں نے بچوں سے انکے مستقبل کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ "گرمیت بیٹا ، یہ بتاؤ۔۔۔۔تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟" "سر،میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔" "گڈ! ۔۔۔۔منوج تم بتاؤ؟" "سر،میرے پاپا مجھے انجینئر بنانا چاہتے ہیں۔" "بہت اچھا۔۔۔۔کیا کوئی ایسا نہیں جو دیش بھگت بننا چاہے؟ "استاد نے سوال کیا۔"عادل بیٹے !... تمہارے باپ دادا نے تو اپنی جان کی قربانی دے کر اپنے دیش بھگت ہونے کا ثبوت دیا تھا۔۔۔تم بھی فوج میں جاؤ گے؟" "نہیں سر! عادل نے منہ بنا کر کہا۔۔۔"دیش بھگت بن کے کیا ہو گا۔۔۔اتنی قربانیاں دے کر بھی لوگ ہمیں دیش دروہی سمجھتے ہیں۔"

افسانچہ۔۔۔آوارہ

وہ بس میں رات کےاندھرے میں لڑکی کو چھڑنے لگا،پہلے لڑکی نے اسےگندی حرکت سےباز رہنے کو کہا لیکن وہ بےخوف چھیڑےجارہا تھا. پر جب حرکت برداشت سے باہر ہوگی تو لڑکی نے اسکے گال پر ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا۔ بس میں اس کا دوست بھی موجود تھا اس نے اسے بڑی مشکل سے لڑکی کی پٹائی سے بچایا۔پھر اگلے اسٹاف پر دونوں بس سے اتر گئے۔ "یار! آج میں نے بچا لیا اگر پھر کبھی ایسی حرکت کی تو سمجھو ہماری دوستی ختم ،اسلئے ان بری حرکتوں سے باز آجاؤ ۔" "پر یار ....." " مجھے پتہ ہے ۔مگر ہر لڑکی تمہاری طرح کردار کی ڈھیلی ہو یہ ضروری تو نہیں!! ۔"

افسانچہ۔۔۔ڈریم 11

 ڈریم۔11 خالد بشیر تلگامی دو برسوں سے وہ ڈرہم الیون گیم پر ہارتا رہا۔ اس جوئے کی لت نے اسے کہیں کا نہیں رکھا۔اب تک وہ کئی لاکھ روپیے ہار چکا تھا۔لیکن کروڑ پتی بننے کی حرص میں وہ جوئے پر رقم لگاتا رہا اور ہارتا رہا۔آخر ایک دن اسے پیر بابا کی یاد آگئی۔اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اتنے دنوں تک ان کی طرف دھیان کیوں نہیں گیا۔ پیر بابا کے آستانے پر پہنچا تو وہاں کافی بھیڑ تھی۔اپنی باری کے انتظار میں وہ بھی دوسروں کی طرح ایک بنچ کی ایک خالی جگہ بیٹھ گیا اور سر جھکائے سوچ میں غرق ہو گیا۔ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ "ارے تم!... یہاں کہاں؟" اس نے اپنے دوست شہنواز سے پوچھا۔ "یہی سوال میں تم سے کرنے آیا ہوں۔۔۔۔ادھر سے گزر رہا تھا تو تم پر نظر پڑ گئی۔۔۔ہاں،اب بتاؤ تم یہاں کیوں آئے ہو۔" "میں۔۔۔؟"اس نے ہونٹ کھولے ہی تھے کہ،اسے احساس ہوا کہ شہنواز کو اپنا مدعا بتانا مناسب نہیں ہے۔وہ شہنواز کا ہاتھ پکڑ کر آستانے سے باہر لے گیا اور ساری بات بتا دی۔ مقصد معلوم ہوتے ہی شہنواز بھڑک اٹھا۔"بہت افسوس ہوا کہ تم اتنے دنوں سے جوا کھیل رہے ہو۔۔۔جتنا...

افسانچہ۔۔عکس

 افسانچہ۔۔۔عکس خالد بشیر تلگامی ایک دکان کے پاس اپنے دوست کے آٹھ سالہ بیٹے کے ہاتھ میں سگریٹ کا پیکٹ دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی۔ میں نے اس کے قریب جاکر پوچھا۔"تم سگریٹ پینے لگے ہو؟" اس نے مجھے اچانک دیکھ کر پہلے تو سلام کیا۔ پھر میرے سوال کا جواب دیا۔ "نہیں انکل۔۔۔یہ تو پاپا نے مجھ سے منگوائی ہے۔" مجھے کافی اطمینان محسوس ہوا۔ لیکن دو مہینے کے بعد اسی دوکان کے پاس ایک بار پھر میری نظر اس پر پڑی۔اور اس بار جلتی ہوئی سگریٹ اس کے ہاتھ میں تھی۔