پروفیسر غضنفر
بزمِ افسانہ نگار ایوینٹ : ہزار رنگ تاثرات : غضنفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرکاۓ بزم کو مبارک باد۔ حسبِ دستور تین افسانچے پیش کیے گئے۔ آج کی بزم میں تبصرے کم ہوۓ بحث زیادہ ہوئی ۔ ادب و علم کے لیے بحث ضروری بھی ہے کہ اس سے گتھیاں سلجھتی ہیں۔ذہن سے جالے ہٹتے ہیں۔نظر سے دھند ہٹتی ہے۔ عکس روشن ہوتا ہے۔تصویریں صاف ہوتی ہیں۔ تخلیق کار کو ان رایوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے جو منفی نوعیت کی ہوتی ہیں۔متن سے متعلق اگر کوئی سوال پیدا ہوا تو کیوں ہوا؟ اس پر تخلیق کار کو دکھی ہونے یا برا ماننے کے بجاۓ سنجیدگی سے سوچنا چاہیے ۔ فن کار کا کمال یہ ہے کہ قاری کے ذہن میں جتنے بھی سوالات ابھریں،ان کے جواب متن سے مل جائیں۔ اچھا اور منجھا ہوا فن کار اس طرح کے سوالات پیدا ہونے کا موقع ہی نہیں دیتا۔وہ ایک ایک لفظ کو سوچ سمجھ کر اسے سیاق و سباق میں رکھ کر اور اس کے کنسکوینسیڑ کو اچھی طرح دیکھ کر استعمال کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ افسانے کی طرح افسانچے کا بھی ایک ایک لفظ اہم ہوتا ہے بلکہ یہاں تو اس کا خیال کچھ زیادہ ہی رکھنا ہوتا ہے کہ افسانے کے پلاٹ کے مقابلے میں یہاں کساو کی اہمیت زیادہ ہے۔ لیکن بحث سے اگر ...