افسانچہ۔۔۔ڈریم 11

 ڈریم۔11

خالد بشیر تلگامی


دو برسوں سے وہ ڈرہم الیون گیم پر ہارتا رہا۔

اس جوئے کی لت نے اسے کہیں کا نہیں رکھا۔اب تک وہ کئی لاکھ روپیے ہار چکا تھا۔لیکن کروڑ پتی بننے کی حرص میں وہ جوئے پر رقم لگاتا رہا اور ہارتا رہا۔آخر ایک دن اسے پیر بابا کی یاد آگئی۔اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اتنے دنوں تک ان کی طرف دھیان کیوں نہیں گیا۔

پیر بابا کے آستانے پر پہنچا تو وہاں کافی بھیڑ تھی۔اپنی باری کے انتظار میں وہ بھی دوسروں کی طرح ایک بنچ کی ایک خالی جگہ بیٹھ گیا اور سر جھکائے سوچ میں غرق ہو گیا۔

اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔اس نے چونک کر سر اٹھایا۔

"ارے تم!... یہاں کہاں؟" اس نے اپنے دوست شہنواز سے پوچھا۔

"یہی سوال میں تم سے کرنے آیا ہوں۔۔۔۔ادھر سے گزر رہا تھا تو تم پر نظر پڑ گئی۔۔۔ہاں،اب بتاؤ تم یہاں کیوں آئے ہو۔"

"میں۔۔۔؟"اس نے ہونٹ کھولے ہی تھے کہ،اسے احساس ہوا کہ شہنواز کو اپنا مدعا بتانا مناسب نہیں ہے۔وہ شہنواز کا ہاتھ پکڑ کر آستانے سے باہر لے گیا اور ساری بات بتا دی۔

مقصد معلوم ہوتے ہی شہنواز بھڑک اٹھا۔"بہت افسوس ہوا کہ تم اتنے دنوں سے جوا کھیل رہے ہو۔۔۔جتنا تم ہار چکے ہو وہ اگر تمہارے پاس ہوتا تو تم ویسے بھی لکھ پتی ہوتے۔۔۔اور یہ تمہارا بابا۔۔۔۔ڈھونگی پیر۔۔۔۔۔اس کے بارے میں تم کو کچھ 

معلوم ہے۔۔۔یہ تم سے بڑا جواری ہے۔۔۔۔"

"ارے دھیرے بولو ۔۔۔۔کیا بک رہے ہو تم۔۔۔۔عقیدت مندوں کی بھیڑ ہے۔۔۔۔اگر کسی نے سن لیا تو جان بچانا مشکل ہو جائے گا۔۔۔دھیرے بولو۔۔۔۔ہاں،بابا کے بارے میں کیا بتا رہے تھے؟"

میں کہہ رہا تھا۔۔۔تم یہاں بابا سے ٹرک معلوم کرنے آئے ہو نہ جس سے تم جیت جاؤ؟"

"ہاں ۔۔۔یہی بات ہے۔"

"اگر اس ڈھونگی کو غیب کی بات معلوم ہوتی تو خود کروڈ پتی نہیں بن جاتا؟"

"کیا بک رہے ہو یار؟"

"بک نہیں رہا ہوں۔۔۔۔یہ اندر کی حقیقت بتا رہا ہوں۔۔۔۔سال بھر سے تمہارا یہ بابا بھی خود بھی ڈریم الیون کا رسیا ہے۔۔۔۔اس کو تمہاری طرح پیسے برباد ہونے کا کوئی غم نہیں ہے کیونکہ عقیدت مندوں سے حرام کا پیسہ جو ملتا ہے۔"

حقیقت جان کر وہ بوجھل قدموں سے اپنے دوست کے ساتھ واپس آ گیا۔اسکے سر سے کروڈ پتی بننے کا بھوت اتر چکا تھا۔

تبصرے