افسانچہ۔۔۔دیش بھگت
ٹیچر نے دیش بھگتی کا سبق پڑھانے کے بعد اس کے متعلق بچوں سے کچھ سوالات پوچھے۔ بچوں کے مختلف جوابات سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔پھر انہوں نے بچوں سے انکے مستقبل کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ "گرمیت بیٹا ، یہ بتاؤ۔۔۔۔تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟" "سر،میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔" "گڈ! ۔۔۔۔منوج تم بتاؤ؟" "سر،میرے پاپا مجھے انجینئر بنانا چاہتے ہیں۔" "بہت اچھا۔۔۔۔کیا کوئی ایسا نہیں جو دیش بھگت بننا چاہے؟ "استاد نے سوال کیا۔"عادل بیٹے !... تمہارے باپ دادا نے تو اپنی جان کی قربانی دے کر اپنے دیش بھگت ہونے کا ثبوت دیا تھا۔۔۔تم بھی فوج میں جاؤ گے؟" "نہیں سر! عادل نے منہ بنا کر کہا۔۔۔"دیش بھگت بن کے کیا ہو گا۔۔۔اتنی قربانیاں دے کر بھی لوگ ہمیں دیش دروہی سمجھتے ہیں۔"