افسانچہ۔۔۔آٹو گراف خالد بشیر تلگامی

جولائی کا مہینہ تھا ۔گرمی اپنے شباب پر تھی۔لیکن اپنے پسندیدہ اسٹار کو دیکھنے کا جذبہ گرمی کی شدت پر حاوی تھا۔بالی وڈ کے ایک فلم اسٹار کی شہر میں آمد تھی۔اخبارات اور نیوذ چینلوں میں اس کے آنے کا خوب چرچا تھا ۔لہذا نہرو پارک میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔میں بھی جیب میں آٹو گراف بک لیے وہاں فلم اسٹار کی آمد کا منتظر تھا۔مقرر وقت سے ایک گھنٹہ زاید ہو گیا تھا لیکن اسٹار کی آمد نہیں ہوئی تھی۔ پیاس کے مارے میرے حلق میں کانٹے پڑ گئے تھے۔پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔لیکن پانی کہیں دستیاب نہیں تھا ۔پارک کے آس پاس تحفظ کے نقطہ نظر سے شہری انتظامیہ نے کوئی دکان لگنے ہی نہیں دی تھی۔اور پارک کے اندر کھانے پینے کا کوئی سامان لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جب پیاس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو میں پارک سے باہر نکلا۔باہر نکلتے ہی میری نگاہ ایک فوجی پر پڑی جو اپنی بوتل کا پانی پی رہا تھا۔یہ دیکھ کر میں اس کے پاس پہنچا اور غور سے اسے دیکھنے لگا۔اس سے پہلے کہ میں پانی طلب کرتا ،اس نے خود ہی پوچھ لیا۔"کیا پانی چاہیے؟" مجھے اس کے سوال پر خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی۔میں نے اثبات میں سر ہلایا۔فوجی نے بوتل میری طرف بڑھا دی۔میں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔ سیراب ہو کر بوتل اسے لوٹا دی۔ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے پوچھا۔"آپ یہاں؟" "جی۔۔۔آج یہاں کچھ فوجیوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔" چونکہ فلم اسٹار کی آمد کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا اس لیے وقت گزارنے کے لیے میں فوجی سے بات کرنے لگا۔"آپ کہاں سے ہیں؟" "جی رانچی جھارکھنڈ سے۔" "گھر جاتے ہیں؟...میرا مطلب ہے کب کب جاتے ہیں؟" "سال میں ایک بار چھٹی ملتی ہے۔" "بچے؟" "ہاں ،تین بیٹاں ہیں۔" "ان کی یاد آتی ہو گی؟" "کیوں نہیں, بہت یاد آتی ہے۔۔۔۔لیکن دیش اور دیش واسیوں کی رکھوالی کرنا میرا پہلا فرض ہے۔" یہ سن کر میری رگوں میں دیش بھگتی کا خون دوڑنے لگا۔فلم اسٹار گیا بھاڑ میں۔میں نے سوچا اور جیب سے اپنی ڈائری نکال کر اس کے روبرو کرتے ہوئے کہا۔"فرینڈ!۔۔۔۔آٹو گراف پلیز!" ✍️✍️✍️

تبصرے